Friday, 2 November 2012

جہاد تین قسم کا ھوتا ھے یہ ایک عارفانہ نکتہ ھے  اس جہاد کی اول قسم ھے اللہ کی راہ میں جہاد دوسرا جھوٹے لوگوں کے ساتھ جہاد اور یہ جہا د فرمان اؒہی ھے تیسرا جہاد ھے برائیوں کی طرف لے جانے والے سر کش نفس سے جہاد حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کا فرمان ھے نفس کے ساتھ بھترین جہا ھے اس  لئے جب بھی رسول خدا کے ذ مانہ میں صحابہ جہاد سے واپس تشریف لاتے تو کہا کرتے تھے کہ ھم جہاد اصغر سے جہا د اکبر کی  طرف لوٹ  آئے ھیں جہا د اکبر اس لئے کہ یہ جہاد ھمیشہ جاری رھتا ھے ھمارا نفس بار بار ھمیں برائیوں کی  طرف اکساتا ھے اور ھمیں خود کو کنٹرول کرنا پڑتا ھے یہ سلسلہ ھماری پوری زیندگی جاری رہتا ھے  پھر دوسری  وجہ یہ بھی ھے کہ کفار کے ساتھ جہاد کرنے میں د شمن ھما رے سا منے ھو تا ھے جبکہ نفس سے جہاد میں دشمن شیطان چھپا ھوا ھوتا ھے پھر کفار کے ساتھ جہاد کرنے والے کی ھمدردی با لکل نھیں ھوتی وہ پوری طرح اپنا د شمن ھی سمجھتا ھے کافر کو جبکہ شیطان کا حملہ شد ید اور محتلف ھوتا ھے مثال جیسے نماذ کے لئے ورغلاتا ھے تو اور  طریقہ سے کبھی تھکا وٹ کا بہانہ کر کے کبھی سردی کبھی نیند کا یعنی ھارے ساتھ محبت جتا کر  د شمنی نبھاتا ھے اس لئے یہ جہاد بھت سخت اور امتحان کی مانند ھوتا ھے اگر ھم اپنے  نفس سے جہاد کرنا شروع کر دیں تو کوئی گناہ کر مرتکب نھیں ھون گے اور ھم سمجھ جا یئں کے ھم نے نجات پا لی ھے اللہ ھماری مدد فر ما ئے 

No comments:

Post a Comment