ڈاکٹر نگہت نسیم کی نذر ایک نظم:
نیا سجدہ
زندگی کی کہانی میں
ایک ایسا بھی کردار نبھائیں
کہ کاسئہِ جاں میں ایسی خیرات ملے
کہ ھم اندر سے سنور جائیں
اور انگنت ھونٹوں کے غاروں میں
ھمارے نام سے
دعائوں کے اتنے دیپ جلیں
کہ ھمارے مقدر کے جہاں میں
گھات لگائے تاریکیوں کے لشکر
روشنی کو سجدہ کرکے
اپنی ھار کا اعلان کریں۔
ایک ایسا بھی کردار نبھائیں
کہ کاسئہِ جاں میں ایسی خیرات ملے
کہ ھم اندر سے سنور جائیں
اور انگنت ھونٹوں کے غاروں میں
ھمارے نام سے
دعائوں کے اتنے دیپ جلیں
کہ ھمارے مقدر کے جہاں میں
گھات لگائے تاریکیوں کے لشکر
روشنی کو سجدہ کرکے
اپنی ھار کا اعلان کریں۔
منیر احمد فردوس(از کتاب: زندگی چہرہ مانگتی ھے)
No comments:
Post a Comment