Wednesday, 7 November 2012

حضرت محمد کا زکر مبارک قدیم صحیفوں میں                                               انبیا اور رسل کے بارے میں اللہ کا قانون ھے کہ وہ اپنے آنے سے پہلے اپنے بعد آنے والے نبی یا رسول کی آمد کی پیشین گوئی بن کر آتے ھیں قران مجید اور  قدیم صحیفوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ھوتا ھے ھر نبی نے اپنے بعد انے والے نبی کی آمد کا زکر کیا ھے نبی کو ماننے یا نہ ماننے پر چونکہ آدمی لے کفر و ایمان کا انحصار ھے اس لئے اللہ تعالی نے اس معملہ میں یہ اھتمام فرما دیا ھے کہ عام اھل حق کی طرح نبی محض اپنی سیرت اور اپنی تعلیمات ھی کے بل  پر دعوت کے لئے نھیں کھڑا ھو جاتا بلکہ آسمان کے بادشاہ کی طرف سے اپنا پروانہ اے تقرر ساتھ لے کر آتا ھے آپ کی بعثت کی خبر حضرت ابرا ہیم سے لیکر حضرت عیسٰی تک سب نے دی ھے اس لئے بائبل میں آپ کا زکر ھے موجودہ بائبل کے دو حصے ھیں عہد نامہ قدیم عہد نامہ جدید عھد نامہ قدیم انبیا کی کتب پر مشتمل ھے اگرچہ اصل شکل سے کافی محتلف ھو چکا ھے کافی کچھ بدل دیا گیا ھے لیکن پھر بھی نبی محترم حضرت محمد کا زکر میلتا ھے حضرت موسٰی کی بشارت خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ھی درمیان سے یعنی تیرے بھایئوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی سننا میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالونگا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب لوں گا (استشنا 19-15-
باقی آئندہ




No comments:

Post a Comment