حضرت محمد کا زکر مبارک قدیم صحیفوں میں انبیا اور رسل کے بارے میں اللہ کا قانون ھے کہ وہ اپنے آنے سے پہلے اپنے بعد آنے والے نبی یا رسول کی آمد کی پیشین گوئی بن کر آتے ھیں قران مجید اور قدیم صحیفوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ھوتا ھے ھر نبی نے اپنے بعد انے والے نبی کی آمد کا زکر کیا ھے نبی کو ماننے یا نہ ماننے پر چونکہ آدمی لے کفر و ایمان کا انحصار ھے اس لئے اللہ تعالی نے اس معملہ میں یہ اھتمام فرما دیا ھے کہ عام اھل حق کی طرح نبی محض اپنی سیرت اور اپنی تعلیمات ھی کے بل پر دعوت کے لئے نھیں کھڑا ھو جاتا بلکہ آسمان کے بادشاہ کی طرف سے اپنا پروانہ اے تقرر ساتھ لے کر آتا ھے آپ کی بعثت کی خبر حضرت ابرا ہیم سے لیکر حضرت عیسٰی تک سب نے دی ھے اس لئے بائبل میں آپ کا زکر ھے موجودہ بائبل کے دو حصے ھیں عہد نامہ قدیم عہد نامہ جدید عھد نامہ قدیم انبیا کی کتب پر مشتمل ھے اگرچہ اصل شکل سے کافی محتلف ھو چکا ھے کافی کچھ بدل دیا گیا ھے لیکن پھر بھی نبی محترم حضرت محمد کا زکر میلتا ھے حضرت موسٰی کی بشارت خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ھی درمیان سے یعنی تیرے بھایئوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا تم اس کی سننا میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالونگا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب لوں گا (استشنا 19-15-
باقی آئندہ
باقی آئندہ
No comments:
Post a Comment