ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ تاریخ کو کس نے بدلا۔؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
18.11.2012, 05:39am , اتوار (GMT+1)
18.11.2012, 05:39am , اتوار (GMT+1)
ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ پوری اسلامی تاریخ اٹھا کر پڑھ لیجئے ۔۔ مسلمان ہی مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے ہیں ۔
حضرت امام حسین سے بیعت مانگنے والے یا انہیں شہید کرنے کا حکم جاری کرنے والے کون تھے ؟
کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو شہید کرنے والے کون تھے ؟
پھر یہی نہیں دربار یزید میں ان کا سر مبارک تھال میں پیش کرنے والے کون تھے ؟
جس کے سامنے پیش کیا گیا وہ کون تھا ؟
جس نے امام عالی مقام جنت کے سردار سیدنا حسین کے دندان مبارک پر چھڑی رکھنے کی گستاخی کی وہ کون تھا ؟
جی یہ وہی یزید تھا جو مسلمان تھا اور امیر معاویہ کا بیٹا تھا جسے مولا حسن سے فریب کر کے جانشین بنایا گیا تھا ۔۔ اورا سے جانشین مقرر کس نے کیا تھا ؟ ۔۔ جی ایک مسلمان نے جو صحابہ رسول ہونے کے دعوے دار تھے اور وہ حضرت امیر معاویہ ہی تھے ۔۔۔ جنہوں نے مولا حسن کو پہلے زبان دی اور بعد میں بیٹے کی وجہ سے مکر گئے تھے ۔۔۔
تاریخ کو کس نے بدلا ۔۔ کس کے حق میں لکھی گئی ۔۔۔۔ بہت تفصیل طلب بحث ہے ۔۔ لیکن اس روش نے دوسری صدی میں زیادہ شدّت اختیار کر لی تھی اور اس خیانت کا سلسلہ چلتا رہا اس لئے کہ تاریخ دانوں کو معلوم تھا کہ مسلمان صرف سنی سنائی باتوں پر یقین رکھیں گے اور ملاء کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے ۔۔ صرف باپ دادا اور ملاؤں کے بتائے ہوئے مذہب پر چلیں گے اور قران پاک کو جزادن میں لپیٹ کر الماری کے اوپر رکھ دیں گے ۔۔۔ پھر نظر اوجھل پہاڑ اوجھل ۔۔ اور عقل اور دلیلوں کے دروازے بند کر لیں گے ۔۔
ہمارے علماء ہی نے بتایاکہ اگر یہ فیصلہ نہ ہو سکے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔ تو اس حدیث ثقلین’ مبارکہ کو یاد رکھنا ۔
رسولِ اکرم(ص) نے فرمایا: “میں دو چیزیں تمھارے درمیان چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم اگر اِن سے تمسّک رکھو گے تو میرے بعد کبھی گم راہ نہیں ہوگے۔ اِن میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ خدا کی کتاب آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی رسّی ہے اور دوسری میری عترت میرے اہلِ بیت ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس وارد ہوں۔ پس دیکھنا، میرے بعد تم اِن کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔”
(’حدیثِ ثقلین’ )
یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ نبی اکرم(ص) نے صحیح حدیثوں کو جعلی حدیثوں سے الگ کرنے کے لیے ہمیں جو محکم معیار دیا، وہ یہ ہے کہ حضور اکرم(ص) نے فرمایا:
“جو کچھ مجھ سے تمھارے پاس پہنچے اور وہ قران کے مطابق نہ ہو تو وہ میری کہی ہوئی بات نہیں۔
اِس واضح بیان میں حضور(ص) نے قرآنِ کریم کو جعلی احادیث سے صحیح احادیث کو الگ کرنے کی کسوٹی قرار دیا ہے۔ اور دوسرا پیمانہ اہل بیت کے قول و فعل پر رکھا گیا ۔۔ اور اہل بیت کون تھے ۔۔ وہ لوگ جنہیں حضور نے اپنی اہل بیت کہا جن میں مولا علی ، مولا حسن ، ،مولا حسین اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ ہیں ۔۔ اس حدیث میں قران و عترت یعنی اہلِ بیت کی دو وزنی بنیادوں پر تکیہ فرمایا گیا ہے، اِسی لیے یہ ‘حدیثِ ثقلین’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ :
ثعلبی اپنی تفسیر میں ”ام سلمیٰ ( زوجہ پیغمبر)سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے کہ جناب فاطمہ (س) آنحضرت (ص) کی خدمت میں کھا نالائیں تو آپ نے فرمایا: اپنے شوہر نامدار (حضرت علی ) اور دونوں بیٹوں حسن و حسین (علیہم السلام) کو بھی بلالاؤ، اور جب یہ سب حضرات جمع ہوگئے سب نے ساتھ میں کھانا تناول کیا اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے ان پر اپنی عبا ڈالی اور فرمایا:
”اَللَّھُمَ! انَّ ھولاء اٴہلَ بَیتِی وَ عِتْرتِی فَاَذْھِب عَنھُم الرَّجس وطھّرھُم تَطْھِیْراً“
”خداوندا! یہ میرے اہل بیت اور میری عترت ہیں، ان سے رجس اور برائی کو دور فرما، اور ہر طرح کے رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دے“۔
اب آپ ہی بتایئے قران کی اس تفسیر کے بعد بھی ہم اپنے جد امجد کے احسانوں کو نہ یا د رکھ سکے تو ہمارا انجام تو اس سے بھی برا ہونا چاھئے ۔۔۔
صد افسوس ہم وہ احسان فراموش مسلمان قوم ہیں جو اپنے جد امجد کے احسانات کو بھول بیٹھے ہیں ۔۔ جن کے بے لوث قربانیوں کو تفرقے اور مسالک کی نظر کر بیٹھے ہیں ۔۔ جو ملاں اپنی دوکان چمکانے کی خاطر ہماری آخرت خراب کر رہا ہے اسے ہی سر پر بٹھائے ہوئے ہیں اور جو ہمیں آخرت کی تکلیفوں سے بچانا چاہتا ہے اسے ہم اپنا حریف سمجھ کر حرف غلط کی مٹا دینا چاھتے ہیں ۔۔ ہمارا انجام بنو امیہ سے کہیں زیادہ برا ہو سکتا ہے لیکن جانے پاک رب کو ہم سے کیا امیدیں ہیں کہ ابھی تک ہماری رسی دراز کئے بیٹھا ہے ۔۔۔
اللہ کریم ہماری آخرت کو بخیر کرے اور ہم بھولے ہوئے لوگوں کو صحیح رستہ دکھا دے ۔۔ آمین
حضرت امام حسین سے بیعت مانگنے والے یا انہیں شہید کرنے کا حکم جاری کرنے والے کون تھے ؟
کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو شہید کرنے والے کون تھے ؟
پھر یہی نہیں دربار یزید میں ان کا سر مبارک تھال میں پیش کرنے والے کون تھے ؟
جس کے سامنے پیش کیا گیا وہ کون تھا ؟
جس نے امام عالی مقام جنت کے سردار سیدنا حسین کے دندان مبارک پر چھڑی رکھنے کی گستاخی کی وہ کون تھا ؟
جی یہ وہی یزید تھا جو مسلمان تھا اور امیر معاویہ کا بیٹا تھا جسے مولا حسن سے فریب کر کے جانشین بنایا گیا تھا ۔۔ اورا سے جانشین مقرر کس نے کیا تھا ؟ ۔۔ جی ایک مسلمان نے جو صحابہ رسول ہونے کے دعوے دار تھے اور وہ حضرت امیر معاویہ ہی تھے ۔۔۔ جنہوں نے مولا حسن کو پہلے زبان دی اور بعد میں بیٹے کی وجہ سے مکر گئے تھے ۔۔۔
تاریخ کو کس نے بدلا ۔۔ کس کے حق میں لکھی گئی ۔۔۔۔ بہت تفصیل طلب بحث ہے ۔۔ لیکن اس روش نے دوسری صدی میں زیادہ شدّت اختیار کر لی تھی اور اس خیانت کا سلسلہ چلتا رہا اس لئے کہ تاریخ دانوں کو معلوم تھا کہ مسلمان صرف سنی سنائی باتوں پر یقین رکھیں گے اور ملاء کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے ۔۔ صرف باپ دادا اور ملاؤں کے بتائے ہوئے مذہب پر چلیں گے اور قران پاک کو جزادن میں لپیٹ کر الماری کے اوپر رکھ دیں گے ۔۔۔ پھر نظر اوجھل پہاڑ اوجھل ۔۔ اور عقل اور دلیلوں کے دروازے بند کر لیں گے ۔۔
ہمارے علماء ہی نے بتایاکہ اگر یہ فیصلہ نہ ہو سکے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔ تو اس حدیث ثقلین’ مبارکہ کو یاد رکھنا ۔
رسولِ اکرم(ص) نے فرمایا: “میں دو چیزیں تمھارے درمیان چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم اگر اِن سے تمسّک رکھو گے تو میرے بعد کبھی گم راہ نہیں ہوگے۔ اِن میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ خدا کی کتاب آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی رسّی ہے اور دوسری میری عترت میرے اہلِ بیت ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس وارد ہوں۔ پس دیکھنا، میرے بعد تم اِن کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔”
(’حدیثِ ثقلین’ )
یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ نبی اکرم(ص) نے صحیح حدیثوں کو جعلی حدیثوں سے الگ کرنے کے لیے ہمیں جو محکم معیار دیا، وہ یہ ہے کہ حضور اکرم(ص) نے فرمایا:
“جو کچھ مجھ سے تمھارے پاس پہنچے اور وہ قران کے مطابق نہ ہو تو وہ میری کہی ہوئی بات نہیں۔
اِس واضح بیان میں حضور(ص) نے قرآنِ کریم کو جعلی احادیث سے صحیح احادیث کو الگ کرنے کی کسوٹی قرار دیا ہے۔ اور دوسرا پیمانہ اہل بیت کے قول و فعل پر رکھا گیا ۔۔ اور اہل بیت کون تھے ۔۔ وہ لوگ جنہیں حضور نے اپنی اہل بیت کہا جن میں مولا علی ، مولا حسن ، ،مولا حسین اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ ہیں ۔۔ اس حدیث میں قران و عترت یعنی اہلِ بیت کی دو وزنی بنیادوں پر تکیہ فرمایا گیا ہے، اِسی لیے یہ ‘حدیثِ ثقلین’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ :
ثعلبی اپنی تفسیر میں ”ام سلمیٰ ( زوجہ پیغمبر)سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے کہ جناب فاطمہ (س) آنحضرت (ص) کی خدمت میں کھا نالائیں تو آپ نے فرمایا: اپنے شوہر نامدار (حضرت علی ) اور دونوں بیٹوں حسن و حسین (علیہم السلام) کو بھی بلالاؤ، اور جب یہ سب حضرات جمع ہوگئے سب نے ساتھ میں کھانا تناول کیا اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے ان پر اپنی عبا ڈالی اور فرمایا:
”اَللَّھُمَ! انَّ ھولاء اٴہلَ بَیتِی وَ عِتْرتِی فَاَذْھِب عَنھُم الرَّجس وطھّرھُم تَطْھِیْراً“
”خداوندا! یہ میرے اہل بیت اور میری عترت ہیں، ان سے رجس اور برائی کو دور فرما، اور ہر طرح کے رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دے“۔
اب آپ ہی بتایئے قران کی اس تفسیر کے بعد بھی ہم اپنے جد امجد کے احسانوں کو نہ یا د رکھ سکے تو ہمارا انجام تو اس سے بھی برا ہونا چاھئے ۔۔۔
صد افسوس ہم وہ احسان فراموش مسلمان قوم ہیں جو اپنے جد امجد کے احسانات کو بھول بیٹھے ہیں ۔۔ جن کے بے لوث قربانیوں کو تفرقے اور مسالک کی نظر کر بیٹھے ہیں ۔۔ جو ملاں اپنی دوکان چمکانے کی خاطر ہماری آخرت خراب کر رہا ہے اسے ہی سر پر بٹھائے ہوئے ہیں اور جو ہمیں آخرت کی تکلیفوں سے بچانا چاہتا ہے اسے ہم اپنا حریف سمجھ کر حرف غلط کی مٹا دینا چاھتے ہیں ۔۔ ہمارا انجام بنو امیہ سے کہیں زیادہ برا ہو سکتا ہے لیکن جانے پاک رب کو ہم سے کیا امیدیں ہیں کہ ابھی تک ہماری رسی دراز کئے بیٹھا ہے ۔۔۔
اللہ کریم ہماری آخرت کو بخیر کرے اور ہم بھولے ہوئے لوگوں کو صحیح رستہ دکھا دے ۔۔ آمین
No comments:
Post a Comment