خود غرضی کی ممانعت حضرت انس سے مروی ھے کے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نھیں ھو سکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہ بات یا وہ چیز پسند نھٰیں کرتا جو اپنے لئے کرتا ھے -اس حدیث پاک سے ایک دوسرے کے لئے محبت اور احترام آدمیت کا درس ملتا ھے حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم انسانی زندگی کو ایک پھولوں کا گلدستہ بنانا چاھتے ھیں جو کانٹوں سے پاک ھو جس میں خود غرضی لالچ جھوٹ فریب دھوکہ دھی نا ھو -حسد سے پاک معا شرہ جو ھر عقل مند حساس انسان کا خواب ھوتا ھے آج ھر شخص اپنی جگہ اپنے مقام پہ نا خوش اور مایوس ھے جس کی واحد وجہ اسلام سے دوری حضور صلے اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے روگردانی ھے انصاف قائم ھو گا تو معاشرہ سے رشوت ختم ھو گی اقربا پروری سے حقدار کا حق تلف ھوتا ھے جس سے معا شرہ میں بے چینی پیدا ھوتی ھے جس سے کافی نفسیا تی مسائل جنم لیتے ھیں چوری داکہ زنی قتل غارت گری یہ سب اعلی اقدار کے معاشرے میں نھیں ھوتے ھر شخص اپنی زمہ داری سے آگاہ ھوتا ھے ساب کے جان و مال کی حفاطت سمجھنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ھے محبت کا جزبہ دل میں ھو تو ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی عادت ھوتی ھے جس میں کیسی کے زاتی نظریات سے اختلاف کشیدگی کا باعث نھیں ھوتی یہ پر امن اور مسلم معا شرہ کی شکل ھے جو سنت رسول اللہ اور اللہ کے فرمان پر عمل کر کے ھم حاصل کر سکتے ھیں

No comments:
Post a Comment