Thursday, 22 November 2012


: : : : : : : : جنابِ رباب کی علی اصغر کو ہدایت : : : : : : : :
کربلا کا زکر
(جنابِ رباب نے ننھی سی پیشانی اور خشک ہونٹوں پر بوسہ دے کرکہا تھا:میرے لعل! تو نے آخری وقت رونا نہیں ہے کہ تیرے باپ کو تکلیف پہنچے گی) 

شہادتِ امام مظلوم وہ داغ ہے جو تمام آئمہ طاہرین کے دلوں پر ہے، خصوصاً ششماہے کا گلا اور تیر سہ شعبہ ، چوتھے امام کی خدمت میں ایک شخص آیا اور دیکھا کہ پانی پینا چاہتے ہیں لیکن پیالہ آنسوؤں سے رنگین ہوجاتا ہے اور پھینک دیتے ہیں۔ عرض کیا: مولا ! کب تک آپ روئیں گے؟ فرمایا: یعقوب کے بارہ بیٹے تھے، ایک گم ہوگیا تھا، علم نبوت سے جانتے تھے کہ یوسف زندہ ہے۔ اس پر اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں بے نور ہوگئیں۔ میرے سامنے تو اٹھارہ جوانانِ بنی ہاشم قتل کر ڈالے گئے۔ میں کیسے نہ روؤں؟ اُس نے عرض کیا: مولا ! شہادت تو آپ کی میراث ہے۔ فرمایا: ہاں، کیا ماں بہنوں کی اسیری بھی ہماری میراث ہے؟ 

آپ جانتے ہیں کہ شہزادیاں کتنے دن قید خانہ میں رہیں۔ سکینہ مرگئیں، اُن کی قبر قید خانہ میں بنی جنازہ اُٹھانے والا کوئی نہ تھا۔ قید سے چھوٹ کر جنابِ زینب جب جانے لگیں اور دمشق کی بیبیاں آئیں تو کہا: بھائی کی نشانی قید خانے میں چھوڑے جارہی ہوں۔ باپ کے بعد جی بھر کر پانی نہ پی سکی۔ اُس کی قبر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا۔مردوں کا ذکر نہ ک

کسی نے سنا کبھی کسی بی بی نے شکایت کی تھی جس وقت قافلہ دربارِ یزید کے قریب پہنچا اور قیدی دربار میں بلائے گئے؟ بیبیوں نے سمٹ کر فاطمہ کی بیٹی زینب کو درمیان میں لے لیا تاکہ لوگوں کی نظر نہ پڑے لیکن یزید ملعون کے حکم سے سب کوہٹایا گیا۔ بی بی فضہ نہ ہٹیں۔ شمر نے جب تازیانہ لگانا چاہا ، اپنی قوم والوں سے مخاطب ہوئیں۔ غلامانِ حبش بدل گئے اور تلواریں کھینچ لیں۔ بھرے دربار میں ، جس میں صحابیِ رسول بھی موجود تھے، کسی کو فاطمہ کی بیٹی پر رحم نہ آیا اور کوئی کھڑا نہ ہوا۔ 

زینب بے چین ہوگئیں اور پھر پکارا: یا محمدا! حبشی کنیز کیلئے تلواریں نکل گئیں لیکن آپ کی نواسی کی سفارش اور حمایت کرنے والا کوئی نہیں۔ امام حسین نے وہ کارنامہ چھوڑا ہے کہ اُس کا مثل ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ اپنے ساتھ مرد ایسے لائے تھے کہ تلواریں کھائیں، پیاسے رہے اور جان دے دی۔ بچے ایسے لائے تھے کہ طمانچے کھائے لیکن شکایت نہ کی۔ عورتیں ایسی ساتھ آئی تھیں کہ بھری ہوئی گودیاں خالی کردیں اور بچوں کو گھوڑوں پر خود سوار کرکے میدانِ جنگ میں بھیج دیا۔ امام حسین معصوم تھے جنابِ رباب تو معصومہ نہ تھیں۔ 
اولاد والو! جب چھ ماہ کا بچہ ماں باپ کے ہاتھوں پر آتا ہے اور مسکراتا ہے تو اُن کے دل سے پوچھو۔ امام حسین جب میدان میں آئے اور استغاثہ بلند کیا تو خیمہ سے رونے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ امام آئے اور پوچھا: بہن زینب ! یہ فریاد کی آواز کیسی؟ بہن نے کہا: بھائی! قیامت ہوگئی، اصغر کوگود میں لے لیا۔ گود میں علی اصغر ہیں، امام کیسے سوار ہوں؟ عام طور پر جب کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہونا چاہتا ہے تو ایک ہاتھ میں باگ اور ایک ہاتھ گھوڑے کی پشت پر رکھتا ہے۔ انصاف سے فرمائیے کہ جب دونوں ہاتھوں میں بچہ ہو تو کس طرح سوار ہوں؟ معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین نے بچے کو بہن کی گود میں دے دیا ہو اور سوار ہونے کے بعد بہن نے بھائی کے حوالے کیا ہو۔ 

ابھی تک رباب کھڑی ہوئی تھیں۔ قریب آکر کہا: میرے آقا! میرے بچے کو ذرا مجھے دے دیجئے۔ بیبیوں نے سمجھا کہ پیار کرنے کیلئے لیا ہے۔ رباب بچے کو لئے ہوئے خیمے میں پہنچیں۔ علی اصغر کو نیا کرتہ پہنایا، بالوں میں کنگھی کی، آنکھوں میں سرمہ لگایا اور باپ کی گود میں واپس دے دیا اور کہا: جو گیامیدان میں ،واپس نہیں آیا۔ حسین چلے گئے۔ بچے کیلئے پانی مانگا، تیر چلا، تین پھال کا تیر، معصوم کی گردن، حسین نے اصغر کی گردن اپنے بازو سے ملا دی۔ تیرا ٓیا اور معصوم کی گردن اور حسین کے بازو میں پیوست ہوگیا۔ حسین نے علی اصغر کی گردن سے تیر نکالا اور دیکھا کہ علی اصغر مسکرارہے ہیں۔وہ اس لئے کہ جنابِ رباب نے رخصت کرتے وقت، ننھی سی پیشانی اور خشک ہونٹوں پر بوسہ دے کر کہا تھا: میرے لعل! آخری وقت تو نے رونا نہیں ہے۔




Sunday, 18 November 2012


ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ تاریخ کو کس نے بدلا۔؟ از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
18.11.2012, 05:39am , اتوار (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم۔سڈنی
ایک مقام حیرت یہ بھی ہے کہ پوری اسلامی تاریخ اٹھا کر پڑھ لیجئے ۔۔ مسلمان ہی مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے ہیں ۔

حضرت امام حسین سے بیعت مانگنے والے یا انہیں شہید کرنے کا حکم جاری کرنے والے کون تھے ؟

کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین کو شہید کرنے والے کون تھے ؟

پھر یہی نہیں دربار یزید میں ان کا سر مبارک تھال میں پیش کرنے والے کون تھے ؟

جس کے سامنے پیش کیا گیا وہ کون تھا ؟

جس نے امام عالی مقام جنت کے سردار سیدنا حسین کے دندان مبارک پر چھڑی رکھنے کی گستاخی کی وہ کون تھا ؟

جی یہ وہی یزید تھا جو مسلمان تھا اور  امیر معاویہ کا بیٹا تھا جسے مولا حسن سے فریب کر کے جانشین بنایا گیا تھا ۔۔ اورا سے جانشین مقرر کس نے کیا تھا ؟ ۔۔ جی ایک مسلمان نے جو صحابہ رسول ہونے کے دعوے دار تھے اور وہ حضرت امیر معاویہ ہی تھے ۔۔۔ جنہوں نے مولا حسن کو پہلے زبان دی اور بعد میں بیٹے کی وجہ سے مکر گئے تھے ۔۔۔

تاریخ کو کس نے بدلا ۔۔ کس کے حق میں لکھی گئی ۔۔۔۔  بہت تفصیل طلب بحث ہے ۔۔ لیکن اس روش نے دوسری صدی میں زیادہ شدّت اختیار کر لی تھی اور اس خیانت کا سلسلہ چلتا رہا اس لئے کہ تاریخ دانوں کو معلوم تھا کہ مسلمان صرف سنی سنائی باتوں پر یقین رکھیں گے اور ملاء کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے ۔۔ صرف باپ دادا اور ملاؤں کے بتائے ہوئے مذہب پر چلیں گے اور قران پاک کو جزادن میں لپیٹ کر الماری کے اوپر رکھ دیں گے ۔۔۔ پھر نظر اوجھل پہاڑ اوجھل ۔۔ اور عقل اور دلیلوں کے دروازے بند کر لیں گے ۔۔

ہمارے علماء ہی نے بتایاکہ اگر یہ فیصلہ نہ ہو سکے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔ تو اس حدیث ثقلین’ مبارکہ کو یاد رکھنا ۔

رسولِ اکرم(ص) نے فرمایا: “میں دو چیزیں تمھارے درمیان چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم اگر اِن سے تمسّک رکھو گے تو میرے بعد کبھی گم راہ نہیں ہوگے۔ اِن میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ خدا کی کتاب آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی رسّی ہے اور دوسری میری عترت میرے اہلِ بیت ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس وارد ہوں۔ پس دیکھنا، میرے بعد تم اِن کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔”
(’حدیثِ ثقلین’ )


یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ نبی اکرم(ص) نے صحیح حدیثوں کو جعلی حدیثوں سے الگ کرنے کے لیے ہمیں جو محکم معیار دیا، وہ یہ ہے کہ حضور اکرم(ص) نے فرمایا:

“جو کچھ مجھ سے تمھارے پاس پہنچے اور وہ قران کے مطابق نہ ہو تو وہ میری کہی ہوئی بات نہیں۔


اِس واضح بیان میں حضور(ص) نے قرآنِ کریم کو جعلی احادیث سے صحیح احادیث کو الگ کرنے کی کسوٹی قرار دیا ہے۔ اور دوسرا پیمانہ اہل بیت کے قول و فعل پر رکھا گیا ۔۔ اور اہل بیت کون تھے ۔۔ وہ لوگ جنہیں حضور نے اپنی اہل بیت کہا جن میں مولا علی ، مولا حسن ، ،مولا حسین اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ ہیں ۔۔ اس حدیث میں قران و عترت یعنی اہلِ بیت کی دو وزنی بنیادوں پر تکیہ فرمایا گیا ہے، اِسی لیے یہ ‘حدیثِ ثقلین’ کے نام سے مشہور ہوئی۔ :

ثعلبی اپنی تفسیر میں ”ام سلمیٰ ( زوجہ پیغمبر)سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے کہ جناب فاطمہ (س) آنحضرت (ص) کی خدمت میں کھا نالائیں تو آپ نے فرمایا: اپنے شوہر نامدار (حضرت علی ) اور دونوں بیٹوں حسن و حسین (علیہم السلام) کو بھی بلالاؤ، اور جب یہ سب حضرات جمع ہوگئے سب نے ساتھ میں کھانا تناول کیا اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے ان پر اپنی عبا ڈالی اور فرمایا:

”اَللَّھُمَ! انَّ ھولاء اٴہلَ بَیتِی وَ عِتْرتِی فَاَذْھِب عَنھُم الرَّجس وطھّرھُم تَطْھِیْراً“

”خداوندا! یہ میرے اہل بیت اور میری عترت ہیں، ان سے رجس اور برائی کو دور فرما، اور ہر طرح کے رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دے“۔

اب آپ ہی بتایئے قران کی اس تفسیر کے بعد بھی ہم اپنے جد امجد کے احسانوں کو نہ یا د رکھ سکے تو ہمارا انجام تو اس سے بھی برا ہونا چاھئے ۔۔۔

صد افسوس ہم وہ احسان فراموش مسلمان قوم ہیں جو اپنے جد امجد کے احسانات کو بھول بیٹھے ہیں ۔۔ جن کے بے لوث قربانیوں کو تفرقے اور مسالک کی نظر کر بیٹھے ہیں ۔۔ جو ملاں اپنی دوکان چمکانے کی خاطر ہماری آخرت خراب کر رہا ہے اسے ہی سر پر بٹھائے ہوئے ہیں اور جو ہمیں آخرت کی تکلیفوں سے بچانا چاہتا ہے اسے ہم اپنا حریف سمجھ کر حرف غلط کی مٹا دینا چاھتے ہیں ۔۔ ہمارا انجام بنو امیہ سے کہیں زیادہ برا ہو سکتا ہے لیکن جانے پاک رب کو ہم سے کیا امیدیں ہیں کہ ابھی تک ہماری رسی دراز کئے بیٹھا ہے ۔۔۔

اللہ کریم ہماری آخرت کو بخیر کرے اور ہم بھولے ہوئے لوگوں کو صحیح رستہ دکھا دے ۔۔ آمین

نواسہ رسول امام حسین علیہ اسلام کی اسلام کی سر بلندی کے لئے عظیم قربانی -اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کا نام زھن میں آتے ھی ھر زی شعور انسان کے زھن میں امام حسین علیہ اسلام کی شھادت کا خیال اتا ھے جو انھوں نے صرف اسلام کی سربلندی کے لئے دی حقیقت تو یہ ھے جس پیغام حق کو رسول کریم صلےاللہ نے دنیا تک پہچایا اس کی تکمیل کا کام امام حسین کی قربانی نے انجام دیا امام حسین نے اپنی جان اور خاندان کی زندگیوں کو اللہ کی ؐمحبت اور فرمان پر قربان کر دیا۔ آپ علیہ اسلام کی قربانی نے ثابت کیا کے آنبیا کے وارث انبیا اور رسل کا پیغام صحیع معنوں میں جانتے ھیں اور اس پیغام کی سر بلندی کے لیئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نھیں کرتے -وقت کے یزید کے ھاتھوں اسلام کی پامالی کو آپ علیہ اسلام نے برداشت نا کیا اور حق کا پرثم بلند کیا جبکہ آپ جانتے تھے کہ دنیاوی لحاظ سے آپ علیہ اسلام کی کامیابی کا آثار نھیں ھیں وقت کے بادشاہ سے ٹکر لینا صرف اللہ اور رسول کی ؒلائی ھوئی شریعت کو نافز کرنے کے لئے بھت عظمت ھمت اور پختہ ایمان اور اللہ کی بے پناہ محبت ھونے کی نشانی ھے ،- یزید بد بحت نے اپنے دور میں ھر اس کام کو کیا اور ھر اس کام کی حوصلہ افزائی کی جو اللہ اور شریعت محمدی کے خلاف تھا جبکہ وہ مسلمان کہتا تھا خود کو ایک مسلمان کہلانے والا جب دینی احکام کی خلاف ورزی کرے تو یہ دین بات دین سے بغاوت میں آتی ھے جس میں ھر سچے مسلمان کا فرض بنتا ھے کے وہ پرچم حق بلند کرے اور ایسے شخص یا حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ھو اور جہاد کرے یہی امام علیہ اسلام نے کیا وہ قران دین کے وارث ھیں کس طرح اپنی آنکھوں سے اللہ کی نافرمانی دیکھ سکتے تھے -آپ نے حق کی آواز بلند کی تو باطل نے آپ پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئے وہ ظلم کئے گئے جس کی مثال نھیں ملتی -معصوم بچے خواتیں بوڑھے بیمار جوان سب کو بھوک پیاس کی صوبتعیں برداشت کرنا پڑیں تیر برسائے گئے دودھ پیتے بچوں تک پر ظلم ڈھائے گئے لیکن یمام حسین علیہ اسلام ثابت قدم رھے آپ علیہ اسلام نے ہار نھیں مانی نا ھی باطل کے سامنے در خوف کی فریاد کی آپ علیہ اسلام آخری وقت تک ثابت قدم رھے آور اللہ اور رسول کے حکم پر کاربند رھے موت پیاس بھوک زخموں کی تکلیف سفر کی مشکلات بچوں خواتین کا ساتھ اہل خانہ کی بے پردگی کچھ بھی آپ علیہ اسلام کو اللہ کی محبت سے دور نا کر سکا آپ علیہ اسلام نے سب کچھ اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کیا اور اللہ کے حضور سرخرو ھو کر پیش ھوئے سلام ھے آپ علیہ اسلام کی عطمت شجاعت ھمت صبر عبادت کو سلام یا حسین علیہ اسلام 



Tuesday, 13 November 2012

منافقت ،چغل خوری اور غیبت -منافق کی تعریف یہ ھے کہ وہ ظاھرۤی طور پر تو کیسی فعل کو مانتا ھے دل سے نھیں مانتا اور چغل خور انسان ایک کی شکایت دوسرے کے سامنے کرتا رہتا ھے حضور کریم ایک بار کسی قبرستان سے گزرے تو آپ نے فرمایا ان قبر کے مردوں پر عزاب آرھا ھے جو چغل خوری کرنے کی وجہ سے ھے -ایک اور قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا یہ شخص چغل خور تھا اور ایک اور قبر والے کے متعلق فرمایا کے یہ شخص پاکی کا خیال نھیں رکھتا تھا پھر ایک کھجور کی شاخ منگوا کر اس کی قبر پر رکھ دی اور فرمایا جب تک یہ گیلی رھیں گی عزاب نھیں ھو گا -اس طرح غیبت کا بارے میں بھی تنبیہ کی کے نا کیا کرو غیبت کرنا ایسا ھے جیسے کسی مردہ انسان کا بلکہ اپنے بھائی جو مر گیا ھو اس کا گوشت کھایا ھو اس طرح کی بات قران میں بھی اللہ نے کہی ھے کے غیبت کرنا ایسا ھے جیسے کوئی انسان اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رھا ھو یہنی غیبت سے اس قدر بچا جائے جیسے ھم کوئی حرام چیز سے بچتے ھیں ایک بار حضور کریم سے کیسی نے پوچھا کیا ھم کیسی کے پیٹھ پیچھے وہ بات یا برائی کر سکتے ھیں جو اس انسان میں موجود ھو حضور کریم نے جواب دیا نھیں اگر تم نے پیٹھ پیچھے اس کی برائی کی تو وہ غیبت ھو گی اور اگر وہ برائی اس میں موجود نھیں ھے تو پھر یہ بہتان ھو گا جس کی سزا بھی بھت سخت ھے -اس طرح اسلام کی روح سے ھمیں کسی کی بھی برائی کرنے کی اجازت نھین ھے چاھے وہ برائی اس شخص میں موجود بھی ھو ھاں اگر ھمیں اس کی کوئی بات عادت اچھی نھیں لگتی تو پیار عزت کے ساتھ ھم اچھے طریقے سے اس کو سمجھا سکتے ھیں کہ یہ بری بات ھے آپ نھیں کیا کریں یا یہ عادت چھوڑ دیں لیکن دوسرے کے سامنے اس کی برائی کرنے کا ھمیں ھمارا مزھب اجازت نھیں دیتا نا ھی یہ بات معاشرے میں اچھائی  لانے  کا سبب بن سکتی ھے بلکہ مسائل ھی پیدا ھوتے ھیں کسی کی برائی کرنے سے اکثر جھگڑے ھو جاتے ھیں -اللہ ھمیں اس بات کی سجھ عطا فرمائے جو معاشرہ میں بگاڑ کا سبب ھیں ھم ان کاموں سے بچ سکیں آمین

Monday, 12 November 2012



دکھ کے بعد راحت۔۔۔ سورۃ الانشرح آیات نمبر 5-6 ھے اور بے شک مشکل کے ساتھ آسانی بھی ھے -دھوپ کے بعد چھاؤں رات کے بعد صبح اندھیرے کے بعد اجالا یہ فطرت کا ازلی وابدی اصول ھے اس سے انحراف ممکن نھیں یہ ھو ھے کہ چھاؤں کا وقت شروع ھونے میں دیر ھو جائے لیکن ھوتا ضرور ھے اس آیت میں بھی انسان کو پیش آنے والی مشکلات کی طرف اشارہ کیا گیا ھے اور ایک بات بھی واضع ھے کہ جا مشکلات انسان کو پیش آتی ھیں اس کا بدل اللہ ضرور دیتا ھے اگر دنیا میں نا دے تو آخرت میں ثواب میں بدل دیتا ھے جو ھماری آنیدہ کی زندگی میں ایک نعمت کی طرح ھو گا جب وھاں ھم ایک ایک نیکی کو ترس رھے ھوںگے جب اللہ ھمیں ھمارے دنیا میں مشکلات پر کئے گئے صبر کے بدلے میں ھمیں اجر دے گا تو ھمیں جو خوش نصیبی حاصل ھو گی اس کا ھم اس دنیا میں رھتے ھوئے اندازہ بھی نھیں لگا سکتے ،اللہ ھمیں ھر مشکل میں ثابت قدم رھنے کی توفیق دے آمین