Friday, 21 December 2012

صلاح سے اصلاح کا آغاز لیکن کیسے ؟قران میں ارشاد  باری تعالی ھے کہ اصلاح سے اصلاح کیا کرو قرانی آیت ھے اگر تم سیدھے راستہ پر آگئے توجو گمراھی کہ راستہ پر جا رھے ھیں وہ تمھیں کوئی نقصان نا پہنچا سکیں گے پھر دوسری آیت ھے اور تم لوٹ کر سب میرے پاس آؤ گے تفسیر میں مفسرین نے اس کو یوں بیان کیا ھے اور ایک حدیث کا زکر بھی ھے کہ حضور کریم نے فرمایا جب چار علامتیں پاؤ تو سمجھنا تم گمراہ ھو گئے ھو نمبر ایک جب حرص کے جزبہ کی اطاعت کی جائے نمبر 2 خوھشات نفس کی پیروی کی جائے نمبر 3 دینا کو آخرت پر ترجیح دی جائے نمبر 4 ھر شخص گھنمنڈ میں مبتلا ھو دوسروں کی بات سننے کو تیار نا ھو اور سمجھتا ھو جو وہ کہہ رھا ھے وھی درست ھے کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نا ھو نا سھی سمجھے بس خود کو ھی سھی اور حق بجانب سمھتا ھو تو سمجھ لو تم نفس کے ھاتھوں بک گئے ھو اور گمراہ ھو گئے ھو پھر اصلاح کرنا ضروری ھو جاتا ھے جب یہ چار علامات کسی بھی شخص میں ھو تو اس کو حق نھیں وہ دعوت تبلیغ کرے اب اس صورت میں پھلے اس کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینا لازم ھے جب اپنی اصلاح کر لے گا تو چراغ سے چراغ جلتا ھے والی بات سچ ثابت ھو گی اور معاشرہ میں اصلاح کا عمل جاری ھو گا ھمیں سوچنا ھے کیا ھم ایسا کر رھے ھیں ھم میں کتنا برداشت ھے دوسرے کے موقف کو سننے کی جاننے کی بظاھر تو یہ صورت حال ھے کہ بس ھم سھی ھیں ھم جنتی ھیں دوسرے غلظ ھیں جھنمی ھیں بس جنت میں تو ھم جائیں گے -یہ غلط روش ھے ،ھم بس اپنی اصلاح کریں سب درست رھے گا دوسروں کو برداشت کریں -ھم جس نبی صلے اللہ علیہ وسلم کی امت ھیں ان کے عمل کو مشعل راہ بنائیں - بشک نبی محترم کی زات ھمارے لیے بھترین نمونہ ھے -ھم آج اپنے کلمہ گو مسلمانو ں کو انسان ماننے کو تیار نھیں ان کو جینے کا حق دینے کو تیار نھیں جب کہ اس نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ھیں جو غیر مسلموں سے بھی محبت کا سلوک کیا کرتے تھے - ایک بار ایک یہودی کا جنازہ جا رہا تھا آپ صلے اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزر رھے تھے آپ صلے اللہ علیہ وسلم جنازہ کو دیکھ کر احترام سے رک گئے تھے -پھر ایک واقعہ روایات میں بیان ھوا ھے کہ رسول اللہ کے زمانے میں ایک مسلمان نے ایک زمی اھل کتاب کو قتل کر دیا تھا  معاملہ رسول خدا تک پھنچا تھا ۔،تو رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر زمی کے عہد کو پورا کرنے کی زیادہ زمہ داری ھے اس طرح بے شمار ایسی مثالیں ھیں جو آپ صلے علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ نے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کو دکھایا کی کس طرح ایک مسلمان دوسرے انسان کا احساس کرتا ھے اس کا احترام کرتا ھے خوا وہ کیسی بھی مزھب عقیدہ سے ھو -ھمار ے مزھب میں تو جنگ کی حالت میں بھی کسی پر ظلم زیادتی کو ممنوؑ ع کرا دیا گیا ھے فتح مکہ کے بعد تو بے شمار ایسے واقعے ھوئے جس میں ھمارے رسوؒل اللہ نے عام معافی کا اعلان کیا اور کافی مشر کین کو معاف کیا جب کہ ان کے جرم بھت سنگین تھے -ایک مرتبی بادشاہ نجاشی کا وفد رسول اللہ سے ملنے آیا آپ صلے اللہ نے اس وفد کو محبت احترام کے ساتھ مسجد نبوی میں ٹھرایا اور اس وفد کو اپنے عقیدہ اور مزھب کے مطابق عبادت کی اجازت بھی دی -اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ نکلتا ھے کہ ھمیں اپنی اصلاح کرنی ھے اور اس میں ھی مگن رھنا ھے اگر دوسروں پر توجہ دی تو فتنہ میں مبتلا ھونے کا قوی امکان ھے جو سراسر گمراھی کا راستہ ھے ،جس سے ھم اپنی آخرت برباد کر لیں گے اور دنیا میں بھی بے عزتی ھمارا مقدر ٹھرے گی ۔۔   سیدہ رافیہ گیلانی 

Monday, 17 December 2012

انٹر نیٹ سرچ انجن ،۔ بھت سے لوگوں کو یہ پتا ھی نھیں ھو گا کس طرح ان کا پیچھا کیا جاتا ھے ان کی نگرانی کی جاتی ھے جیسے ھی ھم انٹر نیٹ پر جاتے ھیں ھماری نگرانی شروع ھو جاتی ھے ویب پر ھر اس سائٹ کا ریکارڈ محفوظ ھونا جاتا ھے جہاں ھم کلک کرتے ھیں وذٹ کرتے ھیں پھر اس ڈیٹا کی مدد سے ھر ایک فرد کی الگ الگ فائل تیار کی جاتی ھے اور پھر یہ فائل جزیات دن میں کئی بار فروخت کی جاتی ھیں -یہ کوئی چھوٹا کاروبار نھیں ھے -بلکہ اربوں ڈالر کا کاروبار ھے جب ھئم سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ کمپیوٹر کسی بھی زریعہ سے انٹر نیٹ پر جاتے ھیں تو کچھ بھی کھیں بھی دیکھتے ھیں یا ڈاؤن لوڈ کرتے ھیں ایک خفیہ آنکھ ھمیں دیکھ رھی ھوتی ھے یہ خفیہ آنکھ سرچ انجن میں ھی ھوتی ھے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا سرچ انجن گوگل ھے تمام سرچ انجن ایک مخصوص پروگرام کے زریعے انٹر نیٹ پر جانے والے ھر فرد کی تمام سر گرمیاں نوٹ کرتے ھیں ان کی مدد سے صارف کا خاکہ بناتے ھیں جب کوئی شخص پہلی بار اپنے کمپیوٹر کے زریعے کیسی ویب سائٹ پر جاتا ھے تو اسی لمحے سرچ انجن ایک مخصوص نمبر آپ کے کمپیوٹر کی میموری میں منتقل کر دیتا ھے جو آپ کا شناختی نمبر کہلاتا ھے اور پھر آپ جہاں جہاں بھی جاتے ھیں اس کی تفصیل اس شناختی نمبر کے ساتھ ریکارڈ ھوجاتی ھے -آپ کو بھی اس کا ریکارڈ کمپیوٹر کی کوکیز میں مل سکتا ھے -جب آپ کے بارے میں بھت معلومات جمع ھو جاتی ھیں تو آپ کی شخصیت کا ایک مکمل خاکہ بننے کا عمل شروع ھوجاتا ھے اور سرچ انجن اس کے لئے ایک مخصوص پروگرام کی مدد کرتا ھے یہ پروگرام ان سروے رپوٹوں کی بنیاد پر کام کرتے ھیں جو مختلف ادارے گاھے بگاھے کراتے رھتے ھیں گوگل ھو یا کوئی بھی سرچ انجن ھو ان تمام سرچ انجن کو استعمال کرنے والے سب اپنے اپنے سرچ کا ریکارڈ بناتے ھیں 

Monday, 10 December 2012

موسم سرما کی بیماریاں اور احتیاط -  چونکہ گرمیوں کے بعد سردی کا موسم ھوتا ھے گرمیوں میں ھمیں بھت پسینہ آتا ھے اور بھوک کم لگتی ھے اور اس پسینہ کی وجہ سے فضلات آسانی سے خارج ھوتے رھتے ھیں مگر سردی کے موسم میں اس کے برعکس ھوا کے سرد تر ھونے کی وجہ سے مسامات بند ھو جاتے ھیں جس سے حرارت اور توانائی کا نظام درست نھٰیں رھتا پھر بھوک لگنے کی وجہ سے بھی بے احتیاطی ھو جاتی ھے اکثر لوگ تلی ھوئی خشک میوہ جات کا بکثرت استعمال کرتے ھیں جس سے بیما ریاں بھی بڑھ جاتی ھیں تھوڑی سی احتیاط کر کے موسمی بیما ریوں سے بچ سکتے ھیں احتیاط یوں کریں صبح یا رات کے وقت کھولے آسمان میں نا نکلیں بالکل بند کمرے میں نا سوئیں روشن دان یا کوئی کھڑکی کھلی رکھیں اپنے پیروں کو ھمیشہ گرم رکھیں کیوں کہ پاؤں کی طبعی حالت جسم انسانی پر زیادہ اثر انداز ھوتی ھے اگر کمزور ھیں موسم کی شدت کا مقابلہ نھیں کر سکتے تو دھوپ میں بیٹھ کر تل کے تیل کی مالش کیا کریں اور صحت اجازت دے تو صبح کی نماز کے بعد سیر بھی کیا کریں موسم سرما میں جلد بھت متاثر ھوتی ھے تو گلیسرین لگائین چھرہ اور ھاتھ پر بعض لوگوں کی جلد پر خراش ھو جاتی ھے وہ گلیسرین میں گلاب کا عرق ڈال کر استعمال کریں پھر بعد میں آتا ھے نزلہ زکام یہ بھی سردی میں بڑھ جاتا ھے اس میں بھی احتیاط کریں اگر بلڈ پریشر نھیں ھے تو جوشاندہ کا استعمال بھی کر سکتے ھیں ایک آزمودہ دیسی علاج بھی بیان کیا جاتا ھے وہ نسحہ بھی استعمال میں لا سکتے ھیں ----- گل بنفشہ 5گرام -گل گاؤ زبان 5گرام -تخم خطمی 5گرام -عناب 5گرام -سپستاس 8 دانہ -اصل السونیم کوفتہ 5گرام ان سب کو پانی میں جوش دے کر قہوہ سا بنا لیں چینی ملا کر صبح شام پیئں -ٹھنڈ میں باھر نکلنا ھو تو ناک کو ڈھانپ کر نکلیں گرم کپڑے پہن کر باھر جائیں پانی بھی 8،سے 10 گلاس ضرور پیئں -غسل بھی ضرور کیا کریں گرم پانی سے نھا لینا ٖ صحت کے لئے فائیدہ مند ھوتا ھے جو لوگ روزانہ غسل کرتے ھیں کافی بیماریوں سے محفوظ رھتے ھیں -طبیعت زیادہ خراب ھو تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں -

Sunday, 2 December 2012

اسلام کے ضوابط-                                                                                                              اسلامی طرز ززندگی کافی پرشانیوں سے بچنے کا سبب بن سکتا ھے جو آجکل ہمارے معاشرے میں رائج ھیں ،اسلام ایک مکمل پرسکون زندگی کا تصور دیتا ھے اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا تو اس کی عادت او خصلت سے بھی بخوبی واقف ھے کہ اس کی کیا ضروریات ھیں ،اس لئے جو بھی کام کرنے کو کہا گیا ھے یا کسی عمل سے منع کیا گیا ھے وہ ھمارے فائدہ کے لئے ھی ھے پھر اسلام ایک ایسا معاشرہ کی بنیا چاھتا ھے جو انسانوں کے احساس زمہ داری پر مبنی ھو یہ بھت دکھ کی بات ھے کہ ھم نے اسلام کو اپنی مرضٰی اور پسند کے مطابق اپنایا اس حکم سے کنارہ کشی کی ھے جو رب نے ھمیں دیا اگر ھم اپنے کردار اور عمل میں اسلام کو اپناتے تو آج یہ دنیا جنت ھوتی کیسی کو کوئی تکلیف نا ھوتی زکوۃ کا نظام دے کر اسلام نے غربت کو ختم کیا ھے روزہ سے دوسرے کی بھوک پیاس کا اندازہ ھوتا ھے احساس ھمدردی بڑھتا ھے نماز سے نظم و ضبط پیدا ھوتا ھے اسلام میں وقت کی اھمیت پر بھی توجہ دی گئی اس لئے نماز کے اوقات مقرر کئے گئے تاکہ لوگ وقت کی قدر کریں مردوں کا مسجد میں جانا ضروری اس لئے کیا گیا کہ بھائی چارہ پیدا ھو آپس میں یگانگی پیدا ھو ایک دوسرے کے حالات  معلوم ھوتے رھیں انسان ایک دوسرے مسلمان بھائی سے رابطہ میں رھے اس کے دکھ سکھ کا ضامن بن کر پانچ وقت ایک دوسرے سے سامنا ھو گا تو انسیت پیدا ھو گی ۔پھر ؐمحسن انسانیت نے ایسے کام کئے عمل کار کے دکھائے کوئی بھی وہ عمل کرے تو اس دنیا کو ھی جنت بنا سکتا ھے آپ صلے اللہ علیہ وسلم نے آپس میں بھائی چارے کے فروغ کے لئے اتنے سخت احکام دئے کہ کہا کوئی بھی انسان خود کو مسلمان نھیں کہ سکتا جب تک ان اخلاقیات کے اصولوں کو مان کر عمل نا کر لے مثال کے طور پر حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمانوں تم سب ایک جسم کی مانںد ھو جس طرح جسم کہ کسی حصہ میں درد ھو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ھے تمیں بھی ایسا ھونا چاھیئے ایک مسلمان تکلیف میں ھو تو اس کتلیف کو سب محسوس کریں ،پھر ایک اور جگہ فرمایا آپس میں بدگمانی سے بچو ایک دوسرے کہ عیب نا ٹٹولو نا عیب جوئی کرو آپس میں بغض نا رکھو سب ایک ھو کر رھو -حسد نا کرو تعلقات توڑو اور خدا کے بندے بن جاؤ کسی مسلمان کے لئے جائز نھیں کہ وہ تین دن تک اپنے بھائی سے ناراض رھے ،پھر ھمسایہ کے حقوق کا بتاتے ھوئے فرمایا کہ اگر سالن بھی گھر میں بناؤ تو اس کا شوربہ زیادہ رکھ لے کہ اپنے ھمسایہ کو بھی اس میں سے دے ایک اور بار فرمایا کہ تم میں سے وہ شخص مجھ پر ایمان نھیں لایا جب تک کہ وہ اس بات کا خیال نا رکھے کہ اس کا ھمسایہ بھوکا ھو اور وہ پیت بھر کر کھانا کھا لے ،ھمیں سوچنا ھے کہ کیا ھم ین باتوں پر کتنا عمل کرتے ھیں صرف زبان سے کہہ دینا ھی کافی نھیں ھوتا کہ ھم مسلمان ھیں بلکہ ھمیں عمل کرنا ھے اور اپنے خدا اور رسول صلے اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ثبوت دینا ھے اپنے عمل کردار سے ثابت کرنا کہ ھم ایک سچے مسلمان اور انسان ھیں -

Saturday, 1 December 2012



اچھا اخلاق


• پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما تے ہیں: حُسنُ الخُلقِ یُثَبِّتُ المَوَدَّۃَ اچھا اخلاق ،دوستی اور محبت کو پائدار بناتا ہے
• حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اِنَّ اَحسَنَ الحَسَنِ الخُلقُ الحَسَنِبہترین نیکی اچھا اخلاق ہے
• حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اَفضَلُ الشَّرَفِ الاَدَبُبہترین شرف انسان کے لئے باادب ہونا ہے
• حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: لاٰ زِینَۃَ کَالاَدَبِکوئی زینت نہیں ہے انسان کے لئے مگرادب
• پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اَلخُلقُ الحَسَنُ نِصفُ الدِّینِاچھا اخلاق نصف دین ہے
• حضرت امام علی علیہ السلام فرما تے ہیں: عَقلُ المَرئِ نِظٰامُہُ وَاَدَبُہُ قَوٰامُہُعقلمند انسان مستقل اورباادب پائیداررہتا ہے