انسان کے روحانی امراض صدیوں سے زمانہ بتدریج جدت کی جانب بڑھ رھا ھے صنعتی انقلاب کی وجہ سے فاصلے سمٹ رھے ھیں گھنٹون کا کام منٹون میں ھونے لگا ھے مادہ پرستی نے انسان کو مشین بنا کر رکھ دیا ھے پھر بھی انسان کے لئے ضروری ھے کہ عقل شعور کا دامن نا چھوڑے اور بنی نوع انسان کی بھلائی کا کام کرتا رھے خود غرضی اور لالچ و طمع سے بچے گا تب ھی دوسرے کا بھلا سوچ سکے گا خودغرضی لالچ انسان کو انسانیت کے معیار سے گرا دیتے ھیں یوں وہ اپنے مقصد حیات کو بھول جاتا ھے آج ھر انسان قدرتی آفات کا رونا روتے دیکھائی دیتا ھے اس کے ھونے کی وجہ نھیں جاننا چاھتا ازل سے دین کا مقصد انسان کی خیر ھی رھا ھے آج تمام برائیاں دین سے دوری کے سبب ھیں قران شفا اور دوا بن کر نازل ھوا پھر مسلمان کیئوں نفسیاتی الجھن اور پریشانیوں کا شکار ھیں یہی روحانی بیماریاں ھی معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنی ھوئی ھیں اخلاقیات کی اقدار ھمارے گھروں معاشرے سے غائب ھو چکی ھیں سب کو صرف اپنی فکر ھے ھر شعبہ زندگی اس سے مثاثر ھو کے اپنے فعا ل کار کردگی دیکھانے سے قاصر نظر آتا ھے ،اب بھی دیر نھیں ھوئی ھمیں اپنی مذھبی قدروں کو سمجھنا ھو گا عمل میں لانا ھو گا سکوں اور ناانصافی ختم کرنے کا واحد زریعہ اسلام دین کے احکام کو بجا لانے میں ھے اس کے لئے ھر فرد کو لازم ھے دین سے آگاھی حاصل کرے اس کی قدروں کو پھچانے اور عمل میں نافز کرے کیوں کی عمل کے بغیر کچھ فائدہ نا ھو گا قرآن حدیث مکمل رھنما ئی کا بھترین زریعہ ھیں لیکن ھمیں سوچ کو بدلنا ھو گا ھم سیکھنے کے لئے اور عمل کرنے کے لئے قران حدیث کا پڑھنا خود پہ لازم سمھجیں گے
No comments:
Post a Comment