اخلاق ----اس دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ھے یہ سب سے اہم سوال ھے - اس کا جواب یہ بنتا ھے کہ یہ دنیا جس میں ھم بھیجے گئے ھیں یہ اللہ کی ملکیت ھے اور انسان اللہ کے نائب ھیں اس دنیا میں ہر شے اللہ کے حکم سے ھے اور وھی اس کا مالک و خالق ھے تو حکم بھی اس کا ھی چلنا ھے یہ تصور اسلام ھمیں دیتا ھے کہ ھم اللہ کے بندے اور نائب ھیں اور امتحان میں ھیں جس کا نتیجہ اگلی زندگی یا آنے والے زمانے میں ھمیں ملنا ھے غرض یہ کے ہر فد ،گروہ ، قوم کو حساب دینا ھے ، جس کا پختہ یقین ہر مسلمان کو ھونا چاھئئے - جب دین کی بات کرتے ھیں تو ھمیں ان چیزوں کو مد نضر رکھنا لازم ھے جن کی وجہ سے دین کی بنیاد ھے اور اس کی حقیقی شکل بھی ، تو اب سب سے پہلے جو بات دین اسلام کی بنیا د ھے وہ فرمان رسول صلے اللہ وآلہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں دیکھتے ھیں آپ ص کا فرمان ھے میں صرف نیک اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ھوں - دوسری حدیث ھے 2 ، بروز قیامت میرے نزدیک سب سے زیادہ وہ شخس ھو گا جو تم میں سب سے زیادہ اخلاق والا ھو گا ، اصل میں اگر دیکھیں تو دین اسلام میں ہر فرض عبادت بھی اخلاق ھی کا سبق دے رھی ھے جیسے نماز ، عاجزی دردمندی ، شرمندگی ، سیکھاتی ھے تکبر رعونت ختم کرتی ھے ، روزہ صبر اور ھمت اور احساس ،زمہ داری سکھاتا ھے ، روزے کی روح یہ ھے کے دل میں برے وسوسے نا آئیں اور ھماری زبان آنکھ ، ہاتھ ، پاؤں ، کان ، سب سے دوسرے انسان محفوظ رھیں ، غیبت چغلی جھوٹ گالی گلوچ سب کی ممانعت کرتا ھے روزہ ، زکوۃ حج ، صبر استقلال ، تقوی ،انسانی ھمدردی ، احساس ، غم خواری ، دست گیری ۔ برابری مساوات ، سکھاتے ھیں ۔ حقیقت میں اگر اخلاق کو مزہب اسلام سے نکال دیں تو دین بے جان ھو جاتا ھے اس لئے اللہ اور اللہ کی طرف سے آنے والے ہر ھادی و پیغمبر نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی زور دیا ھے - ہر انسان پر مسلمان پر ایک خالق کا حق ھوتا ھے دوسرا خلق کا ، خالق کی عبادات اور محبت کو اللہ نے خلق کی محبت کے ساتھ مشروط کر دیا ھے یعنی اگر کوئی بھی انسان دن رات سجدہ مین پڑا رھے اور خلق کو اس کی وجہ سے کوئی رنج ھو گا تو اس کی عبادت اس کو کوئی فائدہ نا دے گی کیونکہ اسلام انسان سے معاشرتی بھلائی چاھتا ھے اور ایک اسلامی معاشرہ محبت و اخلاص کا معاشرہ ھوتا ھے ، اسلام یہ چاھتا ھے اس دنیا میں تمام انسان اس طرح زندگی بسر کریں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست غم گزار ، بہی خواہ ، ھوں ورنہ اگر یہ جزبات نا ھوں تو معاشرے میں سکون قائم نھیں رہ سکتا اسلام کا بنیادی مقصد فلاح دارین ھے ، رسول خدا ص ، نے ایک جامع اور تفصیلی بات ارشاد فرمائی ھے ، کہ بندی حقیقی ایمان کے درجہ پر نھیں پھنچ سکتا جب تک کہ وہ سارے آدمیوں کے لئے وہی بھلائی نہ چاھے جو وہ اپنے نفس کے لئے چاھتا ھے - اس سے بڑھ کر بنی نوع انسان کی بھلائی کا میعار اور کیا ھوگا ؟ ایک جگہ آنحضرت صلے اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان نیکی کرے تو کافر ، فاسق و فاجر مسلمان ، سب سے کرے - اخلاق کی بلندی یہی ھے اور ایسے اچھے اخلاق ھی سے قوموں کی اور جماعتوں کی بناد رکھی جاتی ھے ، اخلاق سے ھی قوت و طاقت ، عزت و سلطنت ، عظمت و رفعت ، حاصل ھوتی ھے ، اخلاق ھی وہ شان ھے جس میں اللہ کی نیابت کا رنگ پایا جاتا ھے ، حدیث ھے اللہ تعالی والے اخلاق اپناؤ - اقوام کی ترقی مادی طاقت سے ھی نھیں ھوتی نا ھی عقل و دماغ سے ھوتی ھے بلکہ اس کے لئے اعلی اخلاقی اقدار بھی ضروری ھوتی ھیں ، ، چند وہ اخلاق جن سے قوموں میں زندگی اور سربلندی پیدا ھوتی ھے 1، اچھی اور صالح عادتیں ،2 مظلوم اور بے کس کی باتوں کو برداشت کرنا 3 مکروہات و مصائب پر صبر کرنا 4 محنت و مشقت اور جدوجہد سے کام لینا 5 حق بات کو بغیر رعونت و تلخی کے سننا 6 عہد کا پورا کرنا وعدے کا لحاظ کرنا 7 ضیف الحال لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنا ،8سخاوت کا رویہ اپنانا 9 مسکینوں کی تواضع کرنا 10 ،داد خواہوں کی داد رسی کرنا 11 عزت عصمت کی حفاظت کرنا 12 لوگوں کے ساتھ عفو و درگزر کا رویہ رکھنا 13 مہمانوں کی تواضع کرنا 14 اس کے علاوہ اپنے اعمال بد و خیر کا پورا پورا خیال رکھنا ، یہھمیں سمجھ لینا چاھئے کہ ہر قوم اور ملک میں انقلاب و تغیر صرف اخلاق کے زریعے ھی آتے ھیں ،
