Tuesday, 13 November 2012

منافقت ،چغل خوری اور غیبت -منافق کی تعریف یہ ھے کہ وہ ظاھرۤی طور پر تو کیسی فعل کو مانتا ھے دل سے نھیں مانتا اور چغل خور انسان ایک کی شکایت دوسرے کے سامنے کرتا رہتا ھے حضور کریم ایک بار کسی قبرستان سے گزرے تو آپ نے فرمایا ان قبر کے مردوں پر عزاب آرھا ھے جو چغل خوری کرنے کی وجہ سے ھے -ایک اور قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا یہ شخص چغل خور تھا اور ایک اور قبر والے کے متعلق فرمایا کے یہ شخص پاکی کا خیال نھیں رکھتا تھا پھر ایک کھجور کی شاخ منگوا کر اس کی قبر پر رکھ دی اور فرمایا جب تک یہ گیلی رھیں گی عزاب نھیں ھو گا -اس طرح غیبت کا بارے میں بھی تنبیہ کی کے نا کیا کرو غیبت کرنا ایسا ھے جیسے کسی مردہ انسان کا بلکہ اپنے بھائی جو مر گیا ھو اس کا گوشت کھایا ھو اس طرح کی بات قران میں بھی اللہ نے کہی ھے کے غیبت کرنا ایسا ھے جیسے کوئی انسان اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رھا ھو یہنی غیبت سے اس قدر بچا جائے جیسے ھم کوئی حرام چیز سے بچتے ھیں ایک بار حضور کریم سے کیسی نے پوچھا کیا ھم کیسی کے پیٹھ پیچھے وہ بات یا برائی کر سکتے ھیں جو اس انسان میں موجود ھو حضور کریم نے جواب دیا نھیں اگر تم نے پیٹھ پیچھے اس کی برائی کی تو وہ غیبت ھو گی اور اگر وہ برائی اس میں موجود نھیں ھے تو پھر یہ بہتان ھو گا جس کی سزا بھی بھت سخت ھے -اس طرح اسلام کی روح سے ھمیں کسی کی بھی برائی کرنے کی اجازت نھین ھے چاھے وہ برائی اس شخص میں موجود بھی ھو ھاں اگر ھمیں اس کی کوئی بات عادت اچھی نھیں لگتی تو پیار عزت کے ساتھ ھم اچھے طریقے سے اس کو سمجھا سکتے ھیں کہ یہ بری بات ھے آپ نھیں کیا کریں یا یہ عادت چھوڑ دیں لیکن دوسرے کے سامنے اس کی برائی کرنے کا ھمیں ھمارا مزھب اجازت نھیں دیتا نا ھی یہ بات معاشرے میں اچھائی  لانے  کا سبب بن سکتی ھے بلکہ مسائل ھی پیدا ھوتے ھیں کسی کی برائی کرنے سے اکثر جھگڑے ھو جاتے ھیں -اللہ ھمیں اس بات کی سجھ عطا فرمائے جو معاشرہ میں بگاڑ کا سبب ھیں ھم ان کاموں سے بچ سکیں آمین

No comments:

Post a Comment