Monday, 5 November 2012

ھر انسان اپنے جزبات کے لئے کسی نہ کسی زبان کا سہارا لیتا ھے اگر زبان نا ھو تو انسان کی حقیقت ایک مٹی کے پتلے سے زیادہ نھیں ھے -ھر  ملک کی اپنی پہچان اس ملک کی زبا ھوتی ھے اور ھماری پہچان ھماری اردو ھے جو مختلف زبانوں کو ضم کرنے کی صلاحیت رکتی ھے اس لئے اس کو لشکری زبان کہا گیا ھے یہ دنیا کی تیسری بڑی زبان ھے اور ھمارے ملک کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک بولی اور سمجھی جاتی ھے لیکن ھمارے کچھ لوگ اس کو اھمیت دینا اپنی توھین سمجھتے ھیں یہ افسوس کی بات ھے جس کو رکھوالا ھونا تھا اوردو زبان کا وھی ختم کرنے کے درپے ھے زندہ قومیں اپنی اقدار اور پھچان بھولا نھیں کرتی ھیں ھمیں اپنی بولی کے لئے کام کرنا ھو گا اس کے فروغ کے لئے  ھمیں اس کا استعمال لازم کرنا ھو گا خواہ وہ روزمرہ زندگی مین ھو یا کمپیوٹر کا استعمال ھو سب جگہ اردو کو نافز عمل لانا ھو گا 

No comments:

Post a Comment