فقط دید کی پزیراٸی سے کیا حاصل ۔۔ میں اک احسا ھوں تصویر نہیں مسرت سے بریز ھو زندگی ممکن کب ھے ۔۔ میں تو صرف ارادہ ھوں تقدیر نھی أحساس کی روشھو ہر سو جہاں میں ۔۔یہ تو ہر اک کی خواہش ھے تدبیر نھیں بیابانوں کی سی وحشت ھے میرے شہر میں یہ تو درد مند أنکھ کے خواب کی تعبیر نہیں ۔سب کچھ پا لینے کی مقدر سے ضد نا کر ہاتھ میں جب خوش بختی کی لکیر نھیں ۔زبان سے ہی لگا لیتے ھو نہ جانے کتنے زخم پھر کیوں کہتے ھو ہاتھ میں کوٸی شمشیر نھیں
Thursday, 5 March 2020
میری غزل
فقط دید کی پزیراٸی سے کیا حاصل ? میں اک احساس ھوں تصویر نہی ۔ مسرت سے لبریز ھو زندگی ممکن کب ھے میں تو اک ارادہ ھوں تقدیر نہی ۔۔ احساس کی روش ھو ہر سو جہاں میں ۔ ہر اک کی خواہش تو ھے پر تدبیر نہی ۔۔ بیابانوںکی سی وحشت ھےمیرے شہر میں یہ تو درد مند أنکھ کے خواب کی تعبیر نہی سب کچھ مقدر سے پا لینے کی ضد نا کیا کر ہاتھ میں جب خوشبختی کی لکیر نہیں زبان سے ہی لگا لیتے ھو نا جانے کتنے زخم پھر کیوں کہتے ھو ھمارے پاس شمشر نہی
Subscribe to:
Posts (Atom)