صلاح سے اصلاح کا آغاز لیکن کیسے ؟قران میں ارشاد باری تعالی ھے کہ اصلاح سے اصلاح کیا کرو قرانی آیت ھے اگر تم سیدھے راستہ پر آگئے توجو گمراھی کہ راستہ پر جا رھے ھیں وہ تمھیں کوئی نقصان نا پہنچا سکیں گے پھر دوسری آیت ھے اور تم لوٹ کر سب میرے پاس آؤ گے تفسیر میں مفسرین نے اس کو یوں بیان کیا ھے اور ایک حدیث کا زکر بھی ھے کہ حضور کریم نے فرمایا جب چار علامتیں پاؤ تو سمجھنا تم گمراہ ھو گئے ھو نمبر ایک جب حرص کے جزبہ کی اطاعت کی جائے نمبر 2 خوھشات نفس کی پیروی کی جائے نمبر 3 دینا کو آخرت پر ترجیح دی جائے نمبر 4 ھر شخص گھنمنڈ میں مبتلا ھو دوسروں کی بات سننے کو تیار نا ھو اور سمجھتا ھو جو وہ کہہ رھا ھے وھی درست ھے کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نا ھو نا سھی سمجھے بس خود کو ھی سھی اور حق بجانب سمھتا ھو تو سمجھ لو تم نفس کے ھاتھوں بک گئے ھو اور گمراہ ھو گئے ھو پھر اصلاح کرنا ضروری ھو جاتا ھے جب یہ چار علامات کسی بھی شخص میں ھو تو اس کو حق نھیں وہ دعوت تبلیغ کرے اب اس صورت میں پھلے اس کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینا لازم ھے جب اپنی اصلاح کر لے گا تو چراغ سے چراغ جلتا ھے والی بات سچ ثابت ھو گی اور معاشرہ میں اصلاح کا عمل جاری ھو گا ھمیں سوچنا ھے کیا ھم ایسا کر رھے ھیں ھم میں کتنا برداشت ھے دوسرے کے موقف کو سننے کی جاننے کی بظاھر تو یہ صورت حال ھے کہ بس ھم سھی ھیں ھم جنتی ھیں دوسرے غلظ ھیں جھنمی ھیں بس جنت میں تو ھم جائیں گے -یہ غلط روش ھے ،ھم بس اپنی اصلاح کریں سب درست رھے گا دوسروں کو برداشت کریں -ھم جس نبی صلے اللہ علیہ وسلم کی امت ھیں ان کے عمل کو مشعل راہ بنائیں - بشک نبی محترم کی زات ھمارے لیے بھترین نمونہ ھے -ھم آج اپنے کلمہ گو مسلمانو ں کو انسان ماننے کو تیار نھیں ان کو جینے کا حق دینے کو تیار نھیں جب کہ اس نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ھیں جو غیر مسلموں سے بھی محبت کا سلوک کیا کرتے تھے - ایک بار ایک یہودی کا جنازہ جا رہا تھا آپ صلے اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزر رھے تھے آپ صلے اللہ علیہ وسلم جنازہ کو دیکھ کر احترام سے رک گئے تھے -پھر ایک واقعہ روایات میں بیان ھوا ھے کہ رسول اللہ کے زمانے میں ایک مسلمان نے ایک زمی اھل کتاب کو قتل کر دیا تھا معاملہ رسول خدا تک پھنچا تھا ۔،تو رسول اللہ نے فرمایا مجھ پر زمی کے عہد کو پورا کرنے کی زیادہ زمہ داری ھے اس طرح بے شمار ایسی مثالیں ھیں جو آپ صلے علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ نے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کو دکھایا کی کس طرح ایک مسلمان دوسرے انسان کا احساس کرتا ھے اس کا احترام کرتا ھے خوا وہ کیسی بھی مزھب عقیدہ سے ھو -ھمار ے مزھب میں تو جنگ کی حالت میں بھی کسی پر ظلم زیادتی کو ممنوؑ ع کرا دیا گیا ھے فتح مکہ کے بعد تو بے شمار ایسے واقعے ھوئے جس میں ھمارے رسوؒل اللہ نے عام معافی کا اعلان کیا اور کافی مشر کین کو معاف کیا جب کہ ان کے جرم بھت سنگین تھے -ایک مرتبی بادشاہ نجاشی کا وفد رسول اللہ سے ملنے آیا آپ صلے اللہ نے اس وفد کو محبت احترام کے ساتھ مسجد نبوی میں ٹھرایا اور اس وفد کو اپنے عقیدہ اور مزھب کے مطابق عبادت کی اجازت بھی دی -اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ نکلتا ھے کہ ھمیں اپنی اصلاح کرنی ھے اور اس میں ھی مگن رھنا ھے اگر دوسروں پر توجہ دی تو فتنہ میں مبتلا ھونے کا قوی امکان ھے جو سراسر گمراھی کا راستہ ھے ،جس سے ھم اپنی آخرت برباد کر لیں گے اور دنیا میں بھی بے عزتی ھمارا مقدر ٹھرے گی ۔۔ سیدہ رافیہ گیلانی
No comments:
Post a Comment