اسلام کے ضوابط- اسلامی طرز ززندگی کافی پرشانیوں سے بچنے کا سبب بن سکتا ھے جو آجکل ہمارے معاشرے میں رائج ھیں ،اسلام ایک مکمل پرسکون زندگی کا تصور دیتا ھے اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا تو اس کی عادت او خصلت سے بھی بخوبی واقف ھے کہ اس کی کیا ضروریات ھیں ،اس لئے جو بھی کام کرنے کو کہا گیا ھے یا کسی عمل سے منع کیا گیا ھے وہ ھمارے فائدہ کے لئے ھی ھے پھر اسلام ایک ایسا معاشرہ کی بنیا چاھتا ھے جو انسانوں کے احساس زمہ داری پر مبنی ھو یہ بھت دکھ کی بات ھے کہ ھم نے اسلام کو اپنی مرضٰی اور پسند کے مطابق اپنایا اس حکم سے کنارہ کشی کی ھے جو رب نے ھمیں دیا اگر ھم اپنے کردار اور عمل میں اسلام کو اپناتے تو آج یہ دنیا جنت ھوتی کیسی کو کوئی تکلیف نا ھوتی زکوۃ کا نظام دے کر اسلام نے غربت کو ختم کیا ھے روزہ سے دوسرے کی بھوک پیاس کا اندازہ ھوتا ھے احساس ھمدردی بڑھتا ھے نماز سے نظم و ضبط پیدا ھوتا ھے اسلام میں وقت کی اھمیت پر بھی توجہ دی گئی اس لئے نماز کے اوقات مقرر کئے گئے تاکہ لوگ وقت کی قدر کریں مردوں کا مسجد میں جانا ضروری اس لئے کیا گیا کہ بھائی چارہ پیدا ھو آپس میں یگانگی پیدا ھو ایک دوسرے کے حالات معلوم ھوتے رھیں انسان ایک دوسرے مسلمان بھائی سے رابطہ میں رھے اس کے دکھ سکھ کا ضامن بن کر پانچ وقت ایک دوسرے سے سامنا ھو گا تو انسیت پیدا ھو گی ۔پھر ؐمحسن انسانیت نے ایسے کام کئے عمل کار کے دکھائے کوئی بھی وہ عمل کرے تو اس دنیا کو ھی جنت بنا سکتا ھے آپ صلے اللہ علیہ وسلم نے آپس میں بھائی چارے کے فروغ کے لئے اتنے سخت احکام دئے کہ کہا کوئی بھی انسان خود کو مسلمان نھیں کہ سکتا جب تک ان اخلاقیات کے اصولوں کو مان کر عمل نا کر لے مثال کے طور پر حضور صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمانوں تم سب ایک جسم کی مانںد ھو جس طرح جسم کہ کسی حصہ میں درد ھو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ھے تمیں بھی ایسا ھونا چاھیئے ایک مسلمان تکلیف میں ھو تو اس کتلیف کو سب محسوس کریں ،پھر ایک اور جگہ فرمایا آپس میں بدگمانی سے بچو ایک دوسرے کہ عیب نا ٹٹولو نا عیب جوئی کرو آپس میں بغض نا رکھو سب ایک ھو کر رھو -حسد نا کرو تعلقات توڑو اور خدا کے بندے بن جاؤ کسی مسلمان کے لئے جائز نھیں کہ وہ تین دن تک اپنے بھائی سے ناراض رھے ،پھر ھمسایہ کے حقوق کا بتاتے ھوئے فرمایا کہ اگر سالن بھی گھر میں بناؤ تو اس کا شوربہ زیادہ رکھ لے کہ اپنے ھمسایہ کو بھی اس میں سے دے ایک اور بار فرمایا کہ تم میں سے وہ شخص مجھ پر ایمان نھیں لایا جب تک کہ وہ اس بات کا خیال نا رکھے کہ اس کا ھمسایہ بھوکا ھو اور وہ پیت بھر کر کھانا کھا لے ،ھمیں سوچنا ھے کہ کیا ھم ین باتوں پر کتنا عمل کرتے ھیں صرف زبان سے کہہ دینا ھی کافی نھیں ھوتا کہ ھم مسلمان ھیں بلکہ ھمیں عمل کرنا ھے اور اپنے خدا اور رسول صلے اللہ علیہ وسلم سے محبت کا ثبوت دینا ھے اپنے عمل کردار سے ثابت کرنا کہ ھم ایک سچے مسلمان اور انسان ھیں -
No comments:
Post a Comment