Saturday, 27 October 2012

چار سال  پھلے میرا  بیٹا جس کا نام محمد شاہ جمال تھا ایک ایکسیڈ نٹ میں مجھ سے جدا ھو گیا کھنے کو تو یہ کافی عرصہ کی بات ھے لیکن مجھے آج بھی اس کا  انتظار ھے دل نھیں مانتا کے وہ د نیا میں نیھں لیکن میں اس کے بغیر بھی جی رھی ھوں ایک ماں کے لیئے یہ زندگی سزا سے کم نھیں ھے کے وہ زیندہ رھے اور اس کا بیٹا د نیا میں نہ رھے ۔ اس کے نام سے ھی میں نے اپنی شاعری کی پھلی کتاب لیکھی تھی جس کا نام تھا عطرت جمال ۔۔آپ اس بلاگ میں میری لیکھی ھر تحریر کو پڑھ سکیں گے چونکے میں ایک میگزین کی ایڈیٹر بھی ھوں تو میری یہ کوشش بھی ھوگی اپے میگزین سے بھی  تحریریں آپ کے لیئۓ اس بلاگ پہ پیش کر سکوں میرے میگزین کا نام بھی میرے بیٹے کے ھی نام سے ھے جو ایک ماھنامہ ھے ۔پھیر میں نے اپنے بیٹے کے نام سے ایک ویلفئر ترسٹ بھی بنایا ھے جس کا نام شاہجمال ویلفئر سوسائٹی ھے اس ٹرسٹ کے تحت   کیا ھم ایک ٹی بی ھسپتال اور مفت سکبول چلا رھے ھیں۔کیوں کے ھہم نے اپنی زاتی جائداد سے ترسٹ کے نام اپنی 14 ایکڑ کیا ھے اب ٹرسٹ بھی اس کی آمدنی سے چلا رھے ھیں۔یہ ایک رجسٹرڈ ویلفیر سوسایتی ھے ۔اگر کوئی اس کار خیر میں ھماری مدد کرنا چاھے تو یقینا اللہ کے حضور اس کا عمل باعث اجر او ثواب ھو گا شکریہ

No comments:

Post a Comment