فقط دید کی پزیراٸی سے کیا حاصل ۔۔ میں اک احسا ھوں تصویر نہیں مسرت سے بریز ھو زندگی ممکن کب ھے ۔۔ میں تو صرف ارادہ ھوں تقدیر نھی أحساس کی روشھو ہر سو جہاں میں ۔۔یہ تو ہر اک کی خواہش ھے تدبیر نھیں بیابانوں کی سی وحشت ھے میرے شہر میں یہ تو درد مند أنکھ کے خواب کی تعبیر نہیں ۔سب کچھ پا لینے کی مقدر سے ضد نا کر ہاتھ میں جب خوش بختی کی لکیر نھیں ۔زبان سے ہی لگا لیتے ھو نہ جانے کتنے زخم پھر کیوں کہتے ھو ہاتھ میں کوٸی شمشیر نھیں
No comments:
Post a Comment