افسانہ ناشکری عورتس بتاریخ
شفق نے ٹی وی لگایا تو کسی مذھبی چینل پر مولوی صاحب جنتی اور دوذخی لوگوں کے بارے میں بتا رھے تھے ان میں ایک بات یہ بھی کہی جہنم میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی جائے گی اس کی وضاحت اس طرح کی کے عورتیں ناشکری بہت ھوتی ھیں کسی بھی سہولت کے مل جانے پر بجائے شکر کرنے کے دکھی ھوتی ھیں کہ ایسا نا ھوتا یا کیوں ھوا تھا ، پروگرام ابھی جاری تھا کہ شفق دل میں اپنے بارے میں سوچنے لگی کہ اس طرح تو میں بھی بہت گناہگار ھوں اور جہنم کی حقدار ھوں کیوں میں بھی اپنے ساتھ ھوئے ہر واقعے کو زہنی اور دلی طور سے قبول نھیں کرتی رھی بلکہ بہت کرب کی کیفیت میں رھی ھوں ، پھر اس کے ذہن میں جیسے فلم سی چل گئی اس کی زندگی کی- وہ یاد کرنے لگی جب ایک دن وہ سکول سے آئی تھی تو اس کو خبر سنائی گیئ کے کل اس کو دیکھنے مہمان آئیں گے کیوں کہ اس کے والد ین اس کی شادی جلد کرنا چاھتے ھیں وجہ یہ ھے کے اچھے خاندان اور امیر زمیندار گھرانے والوں نے اس کا رشتہ مانگا ھے اور اس کے والدین رشتہ دینے پر تیار ھوگئے ھیں ، جیسے ھی اس نے سنا بہت پریشان ھوئی اپنی ماں سے کہا امی میں پڑھنا چاھتی تھی ڈاکٹر بننا چاھتی تھی آپ لوگ مجھے پڑھنے دیں پھر میری کسی سھیلی کی بھی ابھی شادی نھیں ھوئی سب پڑھ رھی ھیں مجھے بھی پرھنے دیا جائے لیکن ماں نے بس اتنا کہا تمھارے بھائی اور ابو جو فیصلہ کرتے ھیں صحیح کرتے ھیں اور وھی حتمی ھوتا ھے میں کیا کر سکتی ھوں ، لیکن اس نے منت کی ماں آپ ابو سے بات تو کریں مجھے پڑھنے دیں پانج سال پھر جہاں چاھیں شادی کریں میں منع نھیں کرونگی ،اس کے بے حد اصرار پر ماں نے وعدہ کیا وہ اس کے ابو سے بات کرے گی لیکن ابو کو کہنا بھی بے سود تھا انھوں نے الٹا ماں کو ڈانٹا اور کہا ھمارے خاندان میں لڑکیوں اپنی شادی کے معاملے میں دخل نھیں دیتی ھیں اور تمھیں پتا ھے اور پھر یہ کہ وہ تو کم عمر ھے تم تو سمجھدار ھو اس کو سمجھاؤ کہ اتنا امیر گھرانے کا رشتہ قسمت والی لڑکیوں کے لئے آتا ھے اور یہ ناشکری کر رھی ھے پڑوس میں فرماں علی صاحب کی بیٹیوں کو دیکھو تعلیم ھے شعور ھے دولت ھے اچھی شکل صورت کی ھیں پھر بھی ابھی تک تین کی تین بیٹیاں کنواری بیٹھی ھیں ،اس کے والدین کے مطابق شادی نا کرنے پر ضد کرنا اس کی ناشکری کی عادت ھے تو یوں یہ اس نے پہلی ناشکری کی جس کو لیکر وہ کافی لمبا عرصہ تک پریشان بھی رھتی تھی کیوں شادی کے بعد وہ امیر زمیندار گھرانہ میں بیاھی گئی تھی ابھی اس کا بچپنا ختم نھیں ھوا تھا اور اس کو ایک اپنے سے پندرہ سال بڑی عمر کے آدمی کی بیوی بنا دیا گیا صرٖ ف یہ ھی نھیں اس زمیندار کی اور بھی غیر اخلاقی عادات تھیں جو کوئی سنجھ دار خاتون بھی کم ھی برداشت کر تی ھو گی لیکن شفق کو برداشت کرنا تھا کیوں کہ وہ امیر آدمی کی بیوی تھی بڑی حویلی جیسا گھر نوکر چاکر اچھا کھانا پینا سب کچھ تو تھا اگر کبھی میکہ جاکر کوئی شکوہ شکایت کر بھی دیتی تو یہی بات کہہ کر اس کی آواز دبا دی جاتی کہ اتنا سب کچھ تو ھے تمھارے پاس پھر بھی تم خوش نھیں ھو ، اس کے یہ بھی کہتے میں دو مربع اراضی تمھارے نام حق مہر میں لکھوائی ھے اتنا خیال ھے تمھارا ، لیکن وہ سوچا کرتی یہ کس کام کی اس نے تو دیکھا تک نہیں اس جائداد کو کدھر ھے کتنا مالیت کی ھے کس جگہ ھے کیوں کہ اس کے سسرال والے اپنی خواتین کو کھیں آنے جانے نھیں دیتے تھی حتی کہ شادی بیاہ میں بھی صرف خاندان کی بوڑھیاں ھی جایا کرتی تھیں اور نوجوان عورتوں کو کھیں کسی جگہ باہر جانے کی اجازت نھیں تھی ، سیر و تفریح کے لئے تو جانا دور کی بات تھی کسی ھمسایہ یا ملنے والوں کے گھر بھی نھیں جا سکتی تھی ، ہاں کبھی کبھار اگر بیمار ھو جاتی تو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے تھے ، یوں اچھا کھانا پینا خوبصؤرت بڑا گھر ،نوکر چاکر سب کے ھوتے ھوئے بھی افسردہ رھنا یہ بھی اس کی ناشکری تھی ، اس کا خاوند اکثر گھر سے باہر رھھتا ڈیرہ پر جہاں اس کے اور بھی مصروفیات تھیں کئی خواتین سے مراسم بھی تھے لیکن بیوی کا اعزاز تو صرف اس کے پاس ھی تھا ، ایسا اس کی ساس کہا کرتی تھی کہ چاھے جتنے تعلق بنا لے ۔ بیوی تو تمھیں ھو کیوں دل برا کرتی ھو ، تمھارے سسر بھی ایسے تھے میں تو کبھی برا نھیں بنایا تھا ، بس اسی طرح شفق کی زندگی گزرتی رھی ، ہر دن صبح ایک ھی طرح کا کام نوکروں کے زمہ کام لگانا اور دیکھنا کیا کیا کرنا ھے یا پھر ڈیڑہ پر اس کے شوہر کے مہمانوں کے لئے کھنا بنوا کر بھیجنا یوں ھی دن گزر رھے تھے اس کے اب تو بچے بھی ھوگئے وہ سکول جانے لگے بس تھوڑا مصروفیت میں فرق یہ آیا کہ اب بچوں کے کام کی بھی دیکھ بھال کر تی تھی بچے زیادہ تر اپنی دادی سے مانوس تھے عزت بھی ماں سے زیادہ دادی کی ھی کیا کرتے تھے کیوں گھر میں بڑی بھی تو وہ تھیں ، اس بات کا بھی دل ھی میں دکھ محسوس کرتی تھی کہ میرے بچے بھی میری اس طرح سے عزت نھیں کرتے جس طرح موں کی کرنے چاھے ، جسے سکول سے آتے ھی دادی کو ملتے پھر اگر سامنے بیٹھی ھوتی تو ماں سے بات کر لیتے ورنہ ضروری نھیں تھا ، اسی طرح خود کو کرب میں محسوس کرتی ایک لمحہ گزارتی رھی کسی طرف سے اس کو وہ مقام نھیں ملا جس کی وہ حقدار سمجھتی تھی خود کو شوہر سے کبھی دبے لفظوں میں شکوہ کرتی کہ آپ گھر میں کم رھتے ھیں تو فورآ کہتا زمیندار ھوں فارغ تھوڑا ھوں مختلف جگہ پر زمین ھے جانا پڑتا ھے تم کہتی ھو ناکارہ بن کر صرف تمھارے پاس بیٹھا رہوں بچوں کے لئے بھی کچھ جائداد بنانی ھے ، پھر تمھارے والدین نے تمھیں کچھ دیا نھیں زمین وغیرہ میری ماں کی ضد تھی تو تمھارے ساتھ میری شادی ھوئی ورنہ میں اتنا بڑا زمیندار مجھے تو اس علاقہ کا ہر بندہ اپنی بیٹی دینے کو تیار تھا ، میری ماں کو تم اچھی لگیں تھیں ، صرف گھر پر رھنے کا کہنے کی وجہ سے اس کو اتنا باتیں سننا پڑتیں تھیں آخر کار اب اس نے کہنا چھوڑ دیا تھا ، وہ بقول اپنی ساس ایک زمیندار کی بیوی ھے اور اس کے بچوں کی ماں ھے کیا یہ بات شکر ادا کرنے کے لئے کم ھے اس کو اور کچھ بھی نھیں سوچنا چاھئیے ، لیکن وہ سوچتی ھے کیوں کہ ناشکری کی عادت جو ھے اس کی ۔یہ سب باتیں سوچ رھی تھی کہ اس بیٹے نے آواز دی امی نوکرانی سے کھیئے میرے کپڑے استری کر دے پھر آپ دیکھ میری چند جوڑے بریف کیس میں رکھوادیں مجھے اسلام آباد جانا ھے کیوں کہ اس داخلہ اب کالج میں اسلام آباد ھوا تھا وہاں اس کی چچا زاد بھی پرھ رھی تھی جو اس کے بیٹے کو پسند بھی تھی اور اس کے شوہر کے کہنے کے مطابق اس کی شادی بھی اس سے کی جائے گی اسی طرح یعنی اپنے بچوں کی شادی میں بھی اس سے نھیں پوچھا جائے گا کیوں پوچھیں زندگی تو اس کے بیٹے نے گزارنی ھے اس نے تو نھیں ، اس کو تو بس شکر ادا کرنا چاھیں کہ وہ ایک بیٹے کی ماں ھے کل کو بہو والی ھو گی اور بیٹا اپنی پسند سے جہاں چاھے گا اسی شہر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رھے گا ، اور یہ حویلی میں رھے گی اپنے زمیندار خاوند کی حویلی میں ، اور کبھی کبھار بہو بیٹا اس کو میزبانی کا شرف دینے آجایا کریں گے لیکن وہ اب ضرور شکر کرے گی کہ اللہ نے اس کو اولاد دی اور ماں کہنے والا دیا ، ورنہ دنیا میں ایسی عورتیں بھی ھیں جو ترستی ھیں کہ ھمیں ماں کہہ کر کوئی پکارے ۔ اب ، شفق نے تہیہ کیا ھے کبھی نا شکری نھیں کرے گی اللہ ناراض ھو گیا تو وہ پھر کدھر جائے گی ،
No comments:
Post a Comment